۱ 4 ۲ ۷ 1 4 2

° 7 0 / ۳ 0 اك ۰ 7 ۹ 07 شلیع: مول کرٹ ا وا ای ه2 تل ےڈ لیو ¥ 07 7 : 3 Ja‏ 5 ۳ : 0 ۱ ۱

یہن )۱/0۵9/020( رہ میں میں 0

۲ 2-2۱222122-241 7۸72

:تست ادا کی OE‏

کے بجی بج ےک

ANNAN N KRN $ KA

ین ہے ار شرا الیک اتر ا

91 اواد ل ر

اسان ان بوچ دک رق رآن ہیں احا د یٹ رسول نی ایرد کتاہوں یکر ےکا تو رک یی ںکرستا جو لکرہونے وا او کج الام گے یی کے دارو مض یشم اوک یکین کی ف مت کو الط سب زد« اورک رقی دینک ای ہے .اہم چوکمہ بیس بکام انسانوں کے پاتھوں ہوتا ہےاس لیے ری ا یت تا ھت و ارا ارک رباد ک٦‏ روا نیشن شی ا لک اصلار ہو کے یی ا

تعاولن‌صرگم جار یوگ <(اداره)

۳ _ ۳۹ ee ۰

*+ ۰

یی نظ رکتاب نزهة النظر“ اصول صد یٹ پر ایک خہایت بی بور ما ٠‏

د یار دد 1 ضر سن ارات نک کت رورش و رت عر اھ د ےک راو کون ی مت ےا مر جاورا یک یت نایال مون ے۔ جو “ی اور هر کی دیاش مض لآ فآب روش e.‏ سانش کیں۔ ان نون لغ پر ال نکی مابہ ناز بش ہیں۔ج وتققی اور وسعت نظ ری

70م و

مقر مزب الفک ری شر تر کے :ام سے خور ای مولف نے مکی ہے

ن عد ورج عاعش ما گل »وس نهک وچ سے ا شرت ی ۔ چنا کہ مولف نے اک او ت اور استفا کو کب یکر نے کے لے 2 نک کر مول فکی زت اور وت ظر سے شر بھی نی طررا تال شم وگل جو ایک عم 7 لاک وج سے اجلہ علا نے اہ کی شر کی

کم با مرضور پر مائ اور ام متعلقہ ا موہ پر ماک ہو ن ےکی وجہ سےگو غامد شی وصحب کی گر تول ہو گی دا ری میں سا بو صول یں بجی ایک کاب ارت دور کے نظام نصاب میں وال سے۔ اردو میں توکیاخود رل میں بھی ان کی شر حگ پائی ان ہے جس مین طہاء کے مرا اور ذو و ضر ور تکیارعای تک ود کی ما حول می ۶ر صہ سے شر نکی طرورت شرت سے مس و کی جار دی ی س میں موجودددور کے طلا اور #ستقفیر ین کے ذو کار عای تکر ے ہو ے کل عبارت»

7 مہو مکی وضاحت, لغوی وء مقص رک تر غلا ص کلام عو E‏ زپ کت یبد د ا وک ات مر هل ور ی مصردفیت ود یر ومع تالغات کے لیل کے سا تیم اک توق ی .ورام وا

شر کی یب ین ال تیم موم لوت لت عبار مت 7 ہونے میں برد عم سوم مقصد عپاررت و مفہو مگووا )کی ایا ے۔ تخل اختمار تل طول فا س ےکر دک يياه م انتا رکو ون رکھاگیاے۔

یهت مسا ہت اصول یف کی ران مات تفع وو 2 اج گی تالف "ار شارا ول عد یت “کی ماب رتو کے

ا سک تر تیب میں ف نکیا اوراسا یکتابو ںکومد مايا ے۔

ام کر ملا لی تار کی ال یکی شرع جو ”شر القار ی“ کے نام سے مور سے یی تر رک مایا

رش درل جناب 22 رل( واعف صا<ب الاک زيرت کار الک 07ء تم متو ن و کور ہو لک | حول نے ا سک طباعح تکاار ارہ کیا۔غد ا ے یاک اگوصل راو را کی تا مت رورو هکت عطافربائۓے۔

تاوت تز وک سے دعا ےک کو بای ماف فربار عاج کی کی قول فراع من اور صتتفیرین و طا تین کے لے ا لک استفاده عام و شا فراسع- تی میں صا ین کے زمرہ یں شا راک ای ر ضاء و خو شنو رک ے نوازے۔ اور اسے آخر تکا ترواۓ۔ والسلام ار شادالقا کی بات لو ری استاز عد عث و تیر رر راش علوم کور یفی۔ جون‌اور ماد الاو ۱۳۱

۵ بسم الله الرحمن الرحیم

قال السَيْح الامام اْعَالِمُ العابل الحافظ وحیذ ذهره و آوانه و فرید غضره و زمانه مهاب الملة والدین أو القضل خمد بن على العسقلانی هیر بان حجر تابه الله الجَنَة بفْضله و کرمه . - ترجہ :-ایے غ نے فر ایاج عام عافد با گل ہے سيخ وشت دز ماک یواست مہہ مرکا ناج شہاب یلار بین لسن کے بش با ۳۹ للئیتت ور بل

9 9 ےن و

شش اص لکنا بک ایت سل سک رش زک ال سے ہور: 3 2 رو چملے جو مولف کے تارف بش ہی ں کسی شاکر دراو ی کے الاق ہیں جا ورام آما ز کاب می شا کرد سے گے ہیں۔ اک مولف کے تارف ے لیف کی 909 لفات:۔ الخ ر »چوا با رگ عم وم رحہ کے اقبار سے بوا ی الث عد یٹ ال مل بل متیر فا رف دا ٹل مد یٹ٢‏ کی نچا کاب سل بار ی شر فکاماہراستاذ۔ یبال مارکا ل فن لیا جا سنا سے ”ض بوڑھا ہو نا۔ تن وڑھا آوی۔ ماش وو مو پا کااستال عقی ڈیا کسی بڑے صا علم و مل ہد جاے واه ن ر سیدہ ہو یاتہ ۶و ۱ الامام:- وه مقت زی مخ ائمَة. ن امامة لام با تاد ہونا۔ العامل:- ع٣‏ لکرے والا- مراد عام ب گل اعمال صا ے تصف۔ رن بجال» عاملین, عمل ة”تف“ ٣‏ ل ا دما لوو ررم الحافظ :- پر کر والا۔ مرا کاب و سنت وش بع تکا حافظط _ ”نت با دکر نا تح فاظا_اصطاح غن حد یٹ یں ایب لاک اماد مشیاد ہو ل۔ وحید:- یما اکیلاءنادرء احد" اکی گر تاد اک ا تر عا لاب دهر:- زات ڈھور۔ آذہھر'۔ عھو]طو مدت ر اطلال »و تاسجت

اوان:- ال نکی شع می زماد۔

فرید:- تا ,یاو موٹی جو سیپ می ایا ہو عفر فر و کی -

ححصر :- زمانہ۔ دن کا آنخر کی صہ۔ ععھ ران وشام تع اکر وعصور_

شہاب: “تارم رو ارد چک » شہب شیانں `

رسد اسر 1 بر اد

دیی:- ملک ہب :نا اد یان۔

ابوالنضل: 7 رن ۔ جو لک تخر ہو شار شل :ابی کم سکی

ماد ہے نیت

عسقلانی:- ”خسقلان کا ام موب ہے۔ مین کے ف ین کے سلن کے

سا تم سا کل شام کے تر جب ایک مقام

الشهیر_ بھی متضپور نحل تن مفعول_ شر حاف

ابن حجر:- ہج رم پر این کے یا پور ہو نکی وجہ۔ جورت زان

صلابت و اتام راے میں ل پر کے باکت زجب و فض کوج سس کر تچ رکا

اطلا زب و فش “کی ہو زا ہے۔ من صاحب‌بالسیاال وج ےک سل نب ٹش

اون تر ی تی ینتا رز تہ ۱

اتابه. :- ج اء ولواب و نا ٹذاب۔ جرا نب اطلاقی ہو جا ہے۔افعال ے ما یواعد ےکر بفضله و کرمه یت نل نی رخ 7

ا

مول ف تروع

ام نام۔ ابوا شض لکثیت, شہاب الدبین لقب اہک مجر سے وور مصر کے نقیقہ کل میں ۲۳م شعبان ٣ے‏ ے کو پیدا ہو ے۔ ”۸ سا لک یکی تر یں والر گرم دنا سس رخصت ہو گئ۔ او کلام پاک حف کی ۹ سالک رل حافظ ہو ۰2 بے انا ہین » 23 وتک اک _ مد والفیہ الیاوی قرا بن عاجب از بر فون وکر 0 _اسایژه

4 ی زین ان رال سرا ان کیان لن ارچ کی اا صاحب القا موس می بلند تیال ہیں رال مت تایه یں سے_ زا ورار ما سے دبک رات ما س کی تتام عاو م لها تیصو صد یٹ ٹل تایبا اور بابر کل پیا کی مواد حفط و م شس جرت نات زمانہ نے باس بے صلی خطابات سے فوازا۔ ڈیڑھ سو سے زا ام جا کی کتابوں سے مولف۔. تالف ایا کہ ا کول کی مراقعت کے بغ رکو جر یٹ و اوصول عر یٹ س کامیاب ہیں ہو کتا۔ ر الپاری- اصابہ تہ یب ال نک با تاز شابکار لفات ہیں۔ ر عت ترآ کی وہ ہار یک پار ماس مین کم ت کم وش لکامہ روش ن فرب ۸۰ سال کیا اکرو اہ ل جن ر سب هگید بشم الله الرحمن ن الرحیم لحم لله الى لم رل عَالِما قرا حي قیوما سبیعا مرا - هد آن لا اله إلا الله وَخْذُه اريك له و ره تخبیراء و هد د محمَذا عبِه و سوه و صلی الله على سید مُحَمَد اي له إلى الاس كاف راز نیز َلی آله و ضخیه ول نیما یر ریہ :- تھام آ ر یں ال خداکے لے ے جو یشم سے عام صاحب ترت ز ندو ام سن اور ده والا ہے۔ می وات د تا ہو کہ اس کے سواکو ٗی معبود یل و هایس ا یک شیف کی اور ا کی خوب وال یا نکر ج مو ل۔ او رگوا می ری ہو لک رل ال علیہ وم اس کے بندےاورر سول ہیں۔اورر مت نازل ہو ام دار کی اللہ علیہ یلم بر جو تام انانو ں کی جانبر سول بتاک کی گے ہیں بشارت ده کے ے اوران کے آل ر ان کاب پراور سلا می نازل مو خوب سلا کیت کے سا تج - لفت:۔-ار-اوصاف جا ال کو زان ے یا نکر خواہ لاعت کے مقابلہ مل ہویا ن مو کرم کم و کرام توول سے مویاز با سے یا عضا وار ]ہے ح کی پار ون ہیں مد کم بق کب وه رل ایرو ور روو ل تہ مم ہوں۔ تم حادث یارٹ۔ وہ حآر اف جس شل ایم و ورو ولول مات ہول_ گے زی رکا تول

۸

ٹم بل یل تال - مق دور کل شی عام حادث ہد اور مود قرم جو کے

ا آول خاک اشن مین مد لثر ی کل یال ے۔ ۱ قام هش بھی عا کی عای ےکر سے ہو سے جملہفعلیہلاا جا سے بھی مور

عات کے ہہوئے باس لایاجاتا ہے ۔ اکا ررر رواک ہوم ظا ہرہو۔

لم یزں تی ات جس ے دوام واسترار ثابت بوداے۔ اس سے اشارد ےک

صفات با ک ازل ہیں ماوت و کن ہیں جیے کے مز لہ اے ماوت مات ہیں۔

صلّہ دعااو طلب ر مت کے مع ہیں۔ جب ال تھا یکی طرف ا یک نبت موک و

طلب کے ن وت ہو گے _ سلو ہہ شت رک ے معان اراو کے در میالند دعاء جب

بن ےکی طرف ست ہو طلب ر مت ۔ جب لا گل ہکی طرف ہت ہو واسقففار_ جب

بر ند ےک طرف نبت ہو وج مراد وگا۔

سید ا متید سیم د تھا اسار ارات یمر 0-2

ارس ار سالجا سول سوه بیس جو لوک ہریت کے لئ بی ایا ہو ۔ متیر

سکاب اور لش چت کیبور

للناس .لام اتقار لے سے الناں۔ ا لکاواجر نیس #عضول کے نز ویک ا کی

ناک آ ہے۔ رادا ی سے قمام انان ہیں خوا کی خطہ کے ہول۔ اج ۳ ل ش جم

رال ہیں حضون نت ےکہاکہ تام تلو قا تک طرف کے گے ہیں کک مدانات و

جمادا تی طرف گید

کافة. ورا تور مفعول ملق دار عرسا نار ال اکاند اکان کی یر صو

سے عال داع ہے۔ ا لکی تہ انیت کے لے کل ہے چی کر عامد لب ایک یر تا

ولیک یال 09

آل۔ تاتا کیہ ۔ علا بصرہ کے نزو یک ا کیا کل بل ےپ کو تم وکر د کیا مرآ کن

کے قاعدہ سے آلکر رگید الک دعل ایل ضصخ رک آنا سک تیر م ال

کو ظا رکر یی ہے۔ عل مکو کوک ال کیال اول واو کے سا تھ ہے۔ وا وکو زو

کرو گیا یے وجو ہے اجو کر دیاگیاے-

۹ آل. ا یکی ذو مین ہیں۔ آل نبھی۔ ناتان ہوت۔ رت علی, حفر تیل کی اولاد. آل حکمی کر وو چنا آ پکاارشاد ہے۔ آل کل رال LUE‏ از نی کے خر نی EEE‏ کے گرا سے اه ہک فی رکو متسد ا ہے بلاواسطہ یں ٹس کے ل رد اتا ےی . سلم مهافت وسل کی سے تفر مکار وایند یرہ خلاف شا امور ے ات تسلیما" ول ا کثیرا کے ماقو و ا رن ی[ ون

آما بعذ :- فان لصیف فی (ضطلاح آهل الحبیب فذ کرٹ لايم فى القَدِيْم والحَِیْبِ فُمن اول مَنْ صَنَفَ في ذلك القاضی ابُو مُحمَدٍ» الرَامهرَمُزي كتابه المحدث الفاضل لكِتّە. 2 والحاکم َبوعبد الله اليتابوري لک لم بهذب و لم يرب و ده آبوئمیم یم الاضفهانی ف علی کتابه مستخرجا و آبِقّی آشیاء للْمتعقّب. :مد صلوۃ کے بعد اصول عد یٹ یل مق زان اور مت نکی تصاتف کرٹ e‏ ای ابو جر رام رم ری ہیں مج نک ی کراب

ث افش کن ر لد اور عاکم را خیشا لور یکی بھی سر زب تہ ہو کیاکی کے بعر ابو م ال صفہانی ہیں ا فھوں نے ا سکاب پر ا تر اکا م کی اورپ پچ بعد سآ نے والوں کے 2 ژد

اب رف شرط ے اکل میس مہم تھا۔ بعد تر وق زماعیہ یل سے سے مضاف الیہ کے عزف کے بعد مشا ہت بار فک و جہ سے لکشم رگا

اصطلاں۔ عرف فاص میس می جو را اور استمال ہواور وی مت مت ر وک ہو گے ہوں من اصولي عد یث۔- ۱ اول من صنف :نہ موا کی فا اور اوبات کے ورن نهک

۱۰

ایس سے ل یاو رک تھی مواور رو این جر فین. کن جار و کے ے۔ ۱ صتف کر کا متیر مض شی نکویار نا۔ وبا کے لئ تالف ؟ اے۔ زامہرمزی۔ مک اوہ راسکن میم خال یکاہ اس کے بعد زاے منقوطہ - ملق خور ستا نکاایک خر ہو ر شر ہے ججہاں کے مہ باشندہ تے_ کتابه یم منصوب ہے صنف ہل مج و فک بنیاو ا کافاعل من سے لت ی _ المحدث الفاصل کا بکانام سے مه ماش ول راد

لکنه .يط اسر راک ے یصو بکام رش کا زا اف ان تا کا لم یستوعب. استیعاب لک پر ۔ مطلب یہ ہ کہ ن کے میاحتٹ ودب طور بن ہآ کے۔ یایور خر اسان کا ایک ور ردم تز شر ے۔ ولم یرتب ڈوو رر کو را استفادہ کل تیا _ فتلاہ لو ی ہونا۔ بعد مس آنا سن ا کے بع رآ ے اور ماک یکناب رکا مکیا۔ ۰ صستخر جا ۔کسرہ کے سا تجھ ‏ کیب می مال دا ے عال ا کا خمل ل ے۔ مطلب ی کہ حام کے فر وگ انشت مضا نک کیا۔ ج نکو حم نے ذکر نی کیا تھا۔ و ابتی اشیاء" کی یئ ےکا م با رکھا جحے بعد یں نے وا ےکر کے ہیں۔

۱ تم جاء دهم الحَطِیْبُ آبوبکر البَعْدَادِي فُصَنَفَ فی قرانین الرَواية كتابا سم الِفایَة و فی آذابها کاب ماه الجامع لآداب السَیْٔخ وَالسٌامع و فل فُنْ من فُنون الحَدِیثِ الا و قذ نف فيه کتاباً مُفْرَذَا و كان كما قال الحافظ وبکر بی نقطة کل من لصف عَلِم ات المخدئین بعد الخطیب عغیال‌علی کنبه ر تھے :ای کے بحر ابو بر خطیب بخ اد یآ افھو نے اصول ر وات برای کاب کی جس کا نا اي رکھااور ای کے داب ےکا بیج کانام المع لادب ان امام رکا

ان عد یٹ می لک می اییاہواہوگاکہ خطیب بغر اوی نے مغ لکوئ یکزاب٠‏ کی

ہو مافظ ار صن نقظہ ن کہ دی جو انصا فک نظرے درک ےگا ان کال خطیب کے بعد کے سمارے مع ںا نکی تالبفات کے ماع ہیں-

الخطیب. ملک شاق کے عائل یت بی بلند پا محرت ناف ماہر فون عد یث۔ نواع علوم عد یٹ پر فرب ۰ کنَابول کے مولف, ہن یں زیادو تر امول عد یٹ ے ملق ہیں ا نک گر انقزر لیف جار بغداد ے جو ۲۲ جلرول یس شع مول ہے۔ مول فکی دما کے مہ یش خو ا نکی ز کی میں مشبور موک گی کنا ہکا را نام - الکفایہ فی قانون الروایہ ے۔ فول الہ بیے۔انوا علوم عد یت۔ ا لکی بہت میں اور وگل ہیں ابن صلار صاحب مقر مس ۹۵ء وگل اور این قن نے و و سوت زا ترانواں غا رکراے ول

کتابا مفردأ پر مو ضوع مسق لک کی ر شلا السابق واللاحق. روايته الانیا عن الآباءء تمیز متصل الاسانید. خطیب یراد ی نے بر نت ںکہ بعد ینآ نے والاا نکی کال سے فا دہ اٹھانے والا ہوگا۔ این نقظہ کے عیال یکت کایچی موم جک رفس ال نکی یفام کا تارج وگ

ثم جَاءَ بعد هم بَعض مَن تَاحُرَ عَنِ الخطیب فاخذ من هذا العلم بتصیب قمع لقاجی عیاض کاب یف سما الما ع و ابوخفص المیانجی جزء؟ سَمًاۂ ما لا یَسْمَع المحدّث جَهلهُ و امال ذلك من التصانیف التى اشتهرث تل -اس کے بعد وه حضرات آسع جو خطیب کے بعد تا حول نے م ے ایک وع حص ماس لکیا۔ ت ی عیاش نے بھی ایک ر سال هگا سک نام الما رکھا۔ ابو حفص ما نی نے بھی ایک جز لی کیا ج سکانام ماش رمث جہل۔اس ی اور بھی تالیفات ہیں چو مشمپور ہیں مبصوط اور نمم بھی ہیں تاک ا لک اناد بر ہواور ضر بھی جک ال لککاحفظ نم سان ہو

جاء بعدهم . سن خطیب بخد ارک کے بعد اس تن کے بہت لاء پیر ہو سے

و من هذا العلم. ال کاشارهاصول حر یت ی طرف کی اور خطیب بر ار ی سے علوم کی طر ف بھی ہو کات بنصیب. شی ند تیم ن و و توبات وا لیا القاضی عیاض ہشن هد یٹ کے بر جو یٹ شفاء مشار ی . کمابوں کے مولف ہیں۔ الماع بات کاب الا مان بط ار وا و تف ر سارت * میانجی۔ ہے ذباك ار دوک ی تنل ہے۔ میا ہک تتر جب ہے۔ آذ بان علا ےکا ایک شر ہے۔ج راغ سے دولوم کے فاصلہ پچ مالا یسع .یسم یذبغی کل ےک مم ستکاناواقف ہو نامناسب نل و امثال ذلک.ال ریا و کیب کے ل‌رواخال_ وف علیہ ہا زوف ے ی تدا ف رکش جذوف ہے۔ شش اس تک بہت ہیں۔ بسطت وو ن غل وکن ر ار ۱ کرت رن ق رک م ذظ آسمان ہو_ إلى أن جاء الحافظ الفقیه تقی الدّین آبوعمرو مان بن الصلاح عَبدٌ ر رف ٤‏ ريل کک ی ا ره على الوضع لیب نی اش که فجمع ات مقاصدها و سم لها من غیرها تخب فواندها فاجتمع فی کتابه ما نفرّق فی غیرہ فبهدا عَكَف الناس غلیه و سازوا لسیّره فلا یخصی کم ناظم هو مختصر و مستدرك عليه و مقتصر و معارض له و منتصر . کریلحم :یبال ک کک فت حافط فی الد ین ابو عم رین صلائش زورک 77ج ان رر لی صد ث بر ما مور ہو ۓ توا یکناب ہو ر؟ لیف رر اس کے فو نکو ہز بگیااور کو ڑا حوژاط کرت ر ے۔ اک وج سے مناسب و عم نہ ہو لاور خطیب کے مت مضاش نکی ط رو توج ہو ے۔ کلف متا رکو

۳ : یال کے علاوه دوعر یکماہوں سے بھی مب مضاین کا اضاف ہکیا۔ بل افھوں نے اپ اب میں وہ تام مان جو دوس ر یکھاپوں یس "ضرق مات هم کاای وج 9 فان NE‏ ا سی رت یز کون نے ا نک یکا بکا نٹ مکی کے نے اختا رکیا سی 9ی01 راک ار کی اض راز :ابن صلاخ اصول هر یٹ کے پڑے تم الق ر مر تب ام نکی اس فن کاب مق مہ اہن صلار تناما کاب ے کناب طافظ مر ہک ر ے ہیں۔ هر زور رئی۔ مرا م اور موگل کے در مان ہہ شر سے جس کے باشندہ ے۔ امس دارالسللطفنت و شق میں تم ہو گے ے - علامہ ووی ٠‏ کات شل د رک دے گے ہیں۔ یل عم یٹ یاک کے استاذ ستے۔ اک مقام پر تھوزا تھوڑاجب جب موت ہو جار ال کا بکا الم اکراتے راک وج سے حافظ صاح ب کہ ر ے ہی کہ ےکا بکماحقہ مب دج وگ ماه نکر با ال رکا اعتنی. خطیب کے وومضاین جو علم مر ہے ے متحلق جے اور جو ملف مضامین کف .کول ہیں فش طور تھے ال نکوش کیا اورا نکی طرف متو چہ ہو ے۔ ام .مطلب ہے ہ ےکہ لیب لاو کرلک کو کو ھی شا لک یت ra.‏ یت ال موجہ ہو گے علماوفضلاء ٹن ا ی کا جانب سوج ہو گے 8 سار وابدسیره. ای اخذ و امشربه_لوگول yT‏ ا کم ۲ ےو او بت تا وگول ۱۵" ا بین میں یا کے عاونا :

ر GE‏ ہاب جرلب

وت ئن لے سا ختضا رکا جیسے علا م لو وک ای اہن رو رہ شسورت توت مره مضاشین کو کر چا اک تر ان کاو ی از لای ے٣‏ ہا

متتصر۔اضار ے 1 اور اتل الیو میں تی رک ناے۔ ا خقار اور اققا رکا و کت

۳ معارض ل4 .عق عارضانہاوراعتراضانہ لو کلام ا ےا الیااللد یاس کیا ے منتصر.مدواعان تک ہوم ا کے امال وابہام قال نز امو رووا اج فسالیی بعش الاخوان ن الخص لهم مهم من ذلك فُلحخصته فی آوراق فة سَمَينْهَا نخبة الفکر فى مُصْطلح آهل الاثر على ترتیب ابْعکرته و سُبیلِ انتهجته مع ما ضممت الیه من شوّارد الفَرَاِدِ و زواند القََائدِ فرغب الی تانی اَن اضع عَلَيْهَا شرا بسل زنوژها و فتخ کنوژه و یروضح ما خفی علی المبتٍی ین ذلك . کا ےم مو کرس جات وی من کرووں۔ تی نے ند ور قوں میں ا سکی تی کر ری اور ا سکانام نار ملع ال الاش رکھا یصے ٹیل نے ان ھی تر < تیب سے مر بکیااور ایبار است اخقیا رکیا ل میس مل نے شا کیان امو رکوجوذ بین ے دور ر ہے واه مکل تیب مسا“ ار ہیں اور مفید اضا نے ھی ہیں۔ پھر دوبارولوگ ھب ری طرف موجہ و سک ہو کر س ال بر ایک ۳۲ حول ج وان اشار ا کو ١‏ لکردے اور اس کے کی ڑا ےکمول رے اور انا مور کی وضاحت کر وک جا ےجو مق کا یرہ شف رج ہیں۔ ین : فا تعقبیه ےا تیه یا ل ےا اوس ول بعض الاخوان.باآوعام رات مراد ہیں-یاخاگل کت کا یھ دی ماد یاے۔ الخص جخیس کر نا کلام طو لیکو ق کر ذلک. مارالیہ مقر مہ بن لا شڑنی اس کے اہم متا ص رگ خی کر ول لخته. یر هو ب کار ام م ے۔ اوراق لطیفه.ورقل لیف “ن قلیلہ سے یبال__چنر اور ان ابتکرته. ابتکا رش کی کل چ زک ها کر نا بور رم ہر ش کا ہلا حص ۔ ہلا پپھل مق اڑسی عد وت حیب جن لکوت ے لی نے انقیار نی ںکیا۔ الفرا ائد۔ یهد ریا مرا ار معا لط اور زارت حر ں-

۵ زوائد الفوائد. زا کد هگ ع- فا تر وک مع وہ مر اضا نے ے متفر ین نے ترش نی سکیا۔ ماخفی. نا یی مورل تصوصا نو کے نکا مر یواتف ہو جاے۔ فاجبته إلى سواله رِجَاءَ الاندزاج فى تلك المسّالك فالغب فی شرجها فى الایضاح والتو جیه و بت على ایا و اها ان ضاحب البیت آذری بما فيه فظهرلی أت رده على صورة البسط الیق و دمجها من توضیجها آوفق فسلکت هذه الطريقة القلیلَةً اساك فاقول طالباً من الله التوفيق فیما هتالك . تھے یں ٹیں نے ان کے سوا کو راکیاامیی رک ے بو ےک شال و جال شان کے رات بیس بل میں نے ا یکی شرب میس نو جیہ ووضاحت میں لور امہال کیاے۔ اور اس کے یگ و خوں پر تن ہکیاے۔ چوک ہگھردالا تیان رو گے وافف ہو تا ے۔ مر ے لے مہ بات ظاہ موک یس ا یک شر حکوسا کے سا ت کول او راس کے رپا( ن ور کے لے کو نے تع کے کن میس ترا زاس ریت کو انا رکا جس پر هداس ہیں اس مقام اراک سے فو شی طل بکرتے ہو ئ ےکا ہو ں۔ لقت: سوال۔ کن ستول ی شر حکی در وات را کن ون ھل نے اک کے ورپ کی ی کاو رق من سی الا ندراج؛ "نا ندرای_جالف لا ضاف الہ ےن میں ےکن رتو لی و ول مشا لک :ات ل تی لفن کات روان رت رای آ تیا هک تن مق نکی ط رآ کاٹ کی نج »و باس - ۱ فبالغت. فا تعقیبیه ے۔ ن مع نکی "تالف فاررأ ہو نے کے بعد- فی الایضاح اعدا کے میں خوب مہا کیا ےک یکنا بکانام نجل خبایا۔ خبئية کے ناور زوایا۔ زاو ےک ,کوش ۔رغ۔عراہ اترات د مجها.ا یکا عطف ماردپ ے جو منصوب ہے۔ ا کی شی رکا مجع من نب ےن درک ہن لخت میس مان لو کرام من ور کو قش رت یس ایام رلو اکر اک انز

دوک اورمر تب سپ فاقول. 6ا7 اتے رط مخذ وف اذ اکا ن الا مل تلبت طالباً ۔ خا ل وا تن سابل سوا لک ے ہو E‏ التوفییق. اسباب 2 رکا ہیا ہو جانا۔ مقر کے بانے کے اسا بکاها کی ہو جانا الخبر عند علماء هذا الفَن مُرادف للخديث قيل الحديث ما جاء عن اَی صلی الله عليه سم ار ما جهن عبرم و من فم قیل لمن یشعغل بالتواریخ و ما شاكلَها الاخباري و لمن یشتغل بالسنة النبوية المحدّت و قیل ببنهما عُموم و خصوص مُطلقاً فکل دیب خبر من غیر عکس. و عبر هنا بالخبر لیکون اشمل . کھت را کے با کے ور یک صد یث کے مت رارف ست اور ہے ی با" لیات کہ عد یت وہ سے جو ر سول راک صلی اللہ علیہ MRE,‏ وت اس کے تیر سے منقول مہو ۔ اک وجہ سے جو جار و ا اور چو ست نیو یک تخل کت ہو اسے در ٹکہاجاحاے او کیال ووفول کے ور میان عموم و تصوص من و رک فبدت ہے۔لہذ اہر هد یت خر ہے۔ نهک الآ کی اور مهال خر سے تی ر یگئی سے کر ا سکاشمول عام ہو۔

اس مقام سے مولف متا ص رکو ییا نکر ر ے ہیں۔ اس سے کل مقد مہ اور کر تھا۔ مولف ت رک تر یف ا ل کا استعالی اختلاف اور جد یث و خر کے ور مان نت اور فرت یا ند ہیں۔ لقست: - علماء فن.اصول عد یٹ کے علا راد بل مرادف۔ لف تلف کر ایک »ول مک عد یٹ و رکا نہوم یال اور دونول جم سب قیل. یدو اتال ے۔ اس ثول کے اعبار سے دونول تاک ہیں۔ من ثم فر ن لاد کو می جات ماش اکل پا جو اکے مشاہ ہو ن شلات احوال عالم الاک و رہ قیل۔ے تیا تول۔ لہ ان کے در مان موم فصوص مل قکی ذببت ے۔ صد یت خا

۳2

ےءصرفما جاء عن النبی عليه الصلوة والسلام کشا ے۔اور رک د ماجاء عن النبی عليه السلام وغیر هشال لاح یفاص دگی اود رام مکی ۔اور اعد سے ناک کے بر فرد یر عام صادق اج سے پت امہ شکور کہا جاسکتا ہے۔ اور عا مکاہر فردخائص پر صادق کل الپ زار رکو مد یت کس کہا ما سک گا بجی مومس من خی ر کک ایک ہاب سے صرق ہوگادوس رک ہاب سے س ۔ ال ار ےک صاح بکتاب نے اس سل میس ٣‏ قو لکو زک کیاے۔ آخر کے ۲ و تم خر سے شنک تقرس لوف کال ول مور بل

فا ره ای متام بیاغ اور سن کی اصطلاح ھی نے 0 - 09 یا۔ اثر ر سول یاک کی اللہ علیہ وسلم ی صحابہ ا ای SIL‏ 9 مرلو دونو ںکو_ فتہام REE TELE A‏ ۰ ستت. کی نت یاک الب تب اراھمت نت

مان نے من میس خر ال کہا کہ الک جوم عام ے اک س بکو شائل

ہوجاے۔چ هکلم عد یت لت اصطلا یں جاک معلوم ہو اس -

و هو باعتبارِ وصوله الینا إِمّا اَن یکون له طرق ای آسانید کثيرة لات طرقاً جمع طريق و فعیل فی الکدرق تجمع لیقع بضمتين و فی القلة لیاف والمراد بالظرق الاسانیڈُ والاسناد حكاية طریق المتن والمتن هو غاية ما ینتهی الیه الاسنادُ من الکلام.

جن وه خر مار یط رف کے کے اخبار سے ا ال کے طرں ر ہو کے از رق شی سے طری نکی او رلک جح اک ت قعل دونوں کے ض کیسا ت لی ے اور قلت لک دزن پل ےار ماد رق مان جر راطق نی ا نے ۱ اور نومب چھال سرت ہو جاے۔ شی صد یٹ شور ہو جائے۔

7 - پان سے مولف خر من حیث الو صول با توافت راوی کے انار سے ذک کر ہے ہیں اس انار سے ê‏ رک ھار ہیں ہں_ موا ”ھور یز نیب

۸ رل کشرت ے۔ + سکااطلاق دس سے زاید ہو جا ہے مطلب مہ م وگل شی گیاسند ںاور روا کر مود الاسانید. انار" ہے۔ لخت میس کیک لگانا 07 ۔اصطاع میس وه طر لام 99 ت9 ط را تن _(طفر) من چہاں سند چام ماع اتضول _ ےکہا۔ دوالفاظ هد یٹ جس ے مان

ملق ہوں_ ست دکوراوی می نکو مرو یب لا امس ولك الکترة احذُ شروط التواتر اذا وردث بلا حصر عد معین بل تكون العَادةُ قذ احالّث توَاطرهم پر لکذب و گذا وقوغه منهم اتفاقاً من غير ا راد ف ارہ اه رر فى الحَمْسَةٍ و قیل فى السبعة و قبل فى العشرة و قیل فى الإثنى عشر و قیل فی الاربعین و قیل فى السبعین و قبل غير ذلك و تمس کل قائل بدلیل جَاءَ فيه ذکر ذالك العدد فافاد العلمّ و لیس بلازم أن یرد فى غيره لاحتمال الاختصاص . :رکفت تات زک شر طول هل سے سے ج بک بل اک تن تد اد سک

ور کالب م شض ہو ناعاد و حال ہو ای طر را کاو تو ان ست ازفا با تعد کے و 50 عضوں نے کی تراد نج نکی ہے۔اسی ر کہ ایاپ ی کہ گیا مات با یا کہ کیا ۳ کہ گیا ٭ ۳ کہا گیا .اور ای کے علادہ بھی اقوال ہیں اوم پر تال نے اتد لا لکیاے اس د کل سے جو عرو کے للل بیس سے ہیں یہ ملق نکاذا تد ود ےگااور لازم لک ال کے یر یس شی کیا جائے۔ انتا ی اتال کوج ے۔ ےو مول ف اس مقام بر خر متوات رکی تر یف اور ای کے ناقا نکی تخر او کے سل می جو ملف اقوال ہیں یا ند ے ہیں۔ تلک.الکٹرہ ۔ ی اسان رک یکخزت خیالل در ےک کت اناد کشر ت ر واچ موا زی شر طوں میں سے ہے۔

9

یت ن وت یں یکی تعدا کو تحص رکرن ےکی ضر ورت ہیں

تین ی کے ج اتل ہیں۔ ۱

بل تکون العادة مطلب ہہ کہ اہی تعدادکہ ان کا وت پر ضف ہو جال ہو

خلافي کل بو ۱

کذا وقوه. کن بکا ال و قصد ار دے سے ٹہ مویہ ا لکی تعدارے

ونان غر مقصر حاکیرے۔

فلا معتی نی جن مت پر سے بھی عل انی م سل ہو جاۓ 2 بای ضابطہ اور

مار ہے۔ وا خزدیک ی ہے۔ دوسرے رال ضاف ہیں۔

اربعة.ال مقرار کے تا تم کی رل شہداوز کی تعداد ے جس سے لین م وکر م رک

با کث »9 اے۔

الحْمُسَة. یکیو بل را لوان ےبعک ر عل ناب شا کوشا ل کزان اکا ادا کن ات روم ا کی کیل وط

کا نبا کہ کف تکااطلان دس بر ے۔ اشا عمش کی د عل مقبا ی تحر اکا اتقبار

ےک کی ارال کے ۲ لیب ے ار من اك حخرات : ا يا ايها اللبی

حسبك اللہ و من ابتعك کہ ال مو پر ا نکی حرا پال تی السبعین کے

E E OS‏ انت سز

و قیل غیر ذلک. ال کے عاوهاتوال بھی ہیں لا ۳۱۳ ہر رج نکی مقرار

و تمسک قائل.ہر تا ےو مل ے١‏ لا لکیاے۔جیبا رگذ رد

و لیس بلازم رو رک لک محر ہرمقام بر غد نکانا تدودرے۔ اورت ر رور ی

چگ ای ےک فادہندے۔کسی گام تال مفید تین تن

لاحتمال الا ختصاص احال ہ ےکہ تما دای عد تن دار سس

فاذا ورد لبر گذالك وانشافت اليه آن یستوی الامر فيه فی ار

المذ كورة من ابتدائه 4 إلى انتهانه والمراذ بالاشتواء ان لا تقض الکثرة ۱ المذكورةٌ فی بعض المواضع لا آن لا يريد اذالريادة هنا نکر ا

7 الاولی و آن یکون مستندٌ انتهانه الامر المشاهد او المسموع لا ما ثبت بقضية العقلِ الصرفِ .

کربت :۔اود خر جب ال ر ورد ہو اورکٹرزت کور وٹ ابتراهست ا نامک اک اطراف کا باب ہو ناشائل ہو جائے۔ مراداستواء سے ہے ےک اک اسراو ایی ند و کیک متام پم مطل ب یں کے زا" نر چ وک زیو فی تو یہاں بر ر چاو مطلوب ے اور کہ ال لاناک ام مشاہ یمور ہو" جک اوت روز

ان ن اک ےن کشر کی تخد اد ند ہو بت زیاد یکی وی حالس اور کہ اکا الق کی ای ام جاکر نموت ہو جو مرول میس سے موه دای بات ہویا سن والی بات و

اتضاف الیه.اتاف کے مع شال ہو نا یر ردام( ر ے۔

. قضية اتا تال رک تن ن کل رک فان ای کے مات نہکیاجاتاہو۔ لے صا کاوجود۔ ال کات می ہونا۔

0 ۶۶پ9 ۰ ین کان ےت

اذا جمع هذه الشروط الأَربعةٌ و ھی عدذ کی آحالت العْادُ تواطنهم و توافهم على الکذب روزا ذلك عن متلهم من الابتداء إلى الانتهاء و كان مستندُ انتهاهم الحس وانضاف الى ذلك ان یُصحب خبرهم افادة العلم لسامعه فهذا هو المتواتر.

تیجح :اور جب ہہ شر وط ارعہ مو چا اور وہ تل کت مرو وٹ بر انفاقی یال عار اب مت انتا کل روا کا سل چلا ہو اور کر ال کیان ایام سو پر ہو امور چب ما کل ہو کے ال سے سام مکو ام من یکا فا تر وھا لب وگایی تر موف ے۔ 5" :-مولف اس متام سے توا کی شر طوں کی تفص ل کر رے ہیں۔ ا کید ۳ر ش ریس ہیں۔(ا )کرت عدد(۴) تمو کا حال ہو نا( ۳ )شر ورن سے آ شک روا کی دا رکا کال مون ۴ )خج رکا علق مم زس تبون ان اسر زین سے سام کو کم تی

۳۱

13 روسل وتم سے مرو ی 2 کے ا ن

و ما تخلفث افادهٌ العلم عنهُ كان مشهُوراً فقطٌ فكل متواتر مشهوز من غير عکس و قد یال ان الشروط الاربعةً إذا خصلث استلزمت حصول العلم و و و یی سا وت التقریر تعریف المتواترٍ و خلافه.

رفظ اور جھ خم مک فا مد سے س کے رہ جاۓ وه وروک ا و ہوک لین ا سک س نہیں از وت LED‏ نیک روم بر رت مس ہت ایس مان ے ر نون کی تیف وا وید

ما موصولہیام و صوذفرے۔ مرادال سے ترے۔

مشپور.با وال مر سم تاف خواو ہو ر اصطلا ی ہو بانہ ہو عضول نے اصطلا ی پاے_

من غیر عکس. یی ہر شور مات لگ

الغالب. لم تک حول ج کہا "اہ یب کیان سک کر موا زہ وگر لقن ہو_

لمانع۔ ک‌عار اور مان سے ںیقی نکن مز حا صل نہ ہو مشلا سا مکی یاس ےت خلافه۔ وار کے فلاف سن شور

قد یرد بلا حصر ايضاً لکن مع فقدِ بعض الشروط او مع حصرِ بما فوق الائنین اى بثلاثة فصاعدا مالم یجتمغ شروط المتواتر ا او بهما ای باثنین فقّط او بواحد فقط والمرادُ بقولنا آن يرد باثنين أن لا يرد باقل منهما. ۱ EY‏ ین کے ما لوح رتش شرطوں ے مفقورہو نے کے سا تم یا ےک تون ہو لک اس کے راوک ر واا کے اد ہول دق تیاور زاو او یی متواترکی شرنیس مع نہ ہو لیا تور ور اولولست ہو صرف ایک را وی ے ہو صرف اور راو زار قول دوے منقول ہو ىہ ےکہ دو ےکم تہ 97 -

۳۳ ض0 ٣‏ 8 ک“کھھ"' اور تر واه رگ ابعمالی ریقف ول حمر کے تین شس یا نکر دے ہیں۔ فقذ بعض روط رام لاد وم کوک پر ید بو : ما فوق. وه حم را »و دور اواو لا سک وا نے مالم یجتمع۔ دوے زاید راو بھی ہوں گر توا رک شر یں مفقورہوںں اوبہما۔ا لک علف ایکون لہ طرن پاات رے۔ا سس صو رت میں جر بو 1 اولواحدِ فقط مرف ایک راو ے قول ہو اس صو رت میں خر واحد موی _ فإ وَرَدَ باکر فی بعض المواضع ہن السّندِ الواحدِ لا يضر اِذِ الق فى هذا العلم یقضی على الا کثر. فالاول المتواتز و هو المفیدُ للعلم الیقینی فاخرَج النظریٌ علی ما یاتی. تقریرةُ بشروطه التی نقلْمث والیقین هو الاعتقادُ الجازم المطابق وهذا هو المعتد أن الخبر المتواتر يفيد العلم الضروری و هو الذي یضطر الانسانٌ اليه بحيب لا یمکن دفعه مع گر تر وام هک مقام پر سند مل دوسے زاید سے مردی مو توکو رس الم کہ اس غن یس کٹ پر قل نالب رت اہے۔ ایس اول ماس یلم کف رود تاے۔ یں نظر یکو ارہ کردا کا الن آر ہا ہے۔ انیں شرطوں کے سا تد جھ پیل گے یں ار لقن اعد ازم ج جردا ے ما ہے۔اور ی مجر س ےک قر ول کف اسب سکی طرف انان ور ہو نا کہ ایکا کرنا نا ش۔ فان ورد تام ددع ی راک ہو جاگیں۔ می السند الوا د نی تو سے شوررستدل صورت ادع ید یقضی۔ ن یحکم و یغلب ے۔ مطلب یک ال نمی بہااو تات قلت تر وفالب بتا ج یچ هکل اس میں عل وک صفت پائی ال ہے۔ نت سر س ققلت روا ے سندعالی+ولّے۔ فاخرج تن قید سے رل جا ےک چوک لقن اسے بھی ہوجاہے جم نظر

rr

و رک صل حت و..

ہو الاعتقاد. ن کو دص a‏ نہ ہو۔ جاز مکی قید سے شک و مکل ما کل اور وائ کی قیر ے ”٢ل‏ مرک العلم الضروری.ا سم بد بچی گھ یکہاجاتاے سکام سل ہو نپا اضرو گر سے ہو الذی یَضطر. ل انا جس کے تو لکرنے پر خواہ ام اور ال ت یکیول نہ ہو جور ے۔ چوک دمل کا ہے مختاع نیں خیال ر کہ امام ال کے نزب واڑے بد می اور نظری اک ناد وا کل ہو تا ے۔ علامہ آھدکیانے کو کی رات ےکوی دی کارت انا رکیاے_ ور زا او زآر ی کے خلاف لٹ نکا فا توا کے یں۔

و قبل لب الم( نظرياً و لیس بشي لأن العم بالمتواتر حاصل لم لیس له اهلية النظرِ کالعاىّی إذالنظرٌ ترتیبٔ امور معلومة آو مظنونة یتوصل بها الى علوم او ظنون و لیس فی العامی اهلية ذلك فلو كان نظریاً لما حصّل لهم ولاح بهذا التقرير الفرق بین.علم الضروری والعلم النظري اذا الضروري یفید العلم بلا استدلال والنظري یفده ولکن مع لاسیدلال علی الافادة و آن الضروري يَحمِل لکل سابع والنظري لا یحصّل الا لمن له اهاي النظر .

ر -او رپ گياکر بر تس فا ود گر نظر یکاھو ہے ورست نس ال توا کے زر وی سے م ای کو کی ا ل ہو انا چ جج ےگلرونطرکی صلاحیت نہیں وت عوا مکو۔ چ رل نظ ری کے صعمی ہیں _ امور معلوم اظ مکوت تیب و ینا اک اس کے ذز لہ سے دوس ری معلومات ی ظیارت حا ل ہو ہیں اور عوام س ا سک ابیت نی اکر ہے ری مو ج توا نکوحاصل نہ وج اور اف سے بر کی رفظ ری مک رق بھی واج گید بد یی مک فا نده وع ہے بلا اتد لال اور نظری فا" رودچاے اتد لال کے سا تم اود ےکہ بسن ہر نت وا ےکو ما ل ہو جانا سے اور نظری نیس ہا ل ہو جا گرا یکو یں میں نظ رفک کی استعدادواللیت ہو لی ے۔

تشر 7 - مولف اس مقام سے اتتلا فکوبیا نکر ر ے ہیں جو مات ما سل و نے

r

از مع ےر مو ےا دی گم قول نبان ر ۓ۔

اشاعرو میں امن وین یره لسع ره رک ظرک با 2 نان فی تا لک طرف از ےد لیس هذا الشئ۔ یماد ظری کے تا ا لان العلم.ردید یل کابیائنے۔ ظاص ىہ کر ات 2 بھی م کل موس ے جوایل گر و نظ رل ہیں۔ نظرنام سے امور معلوم کو تر شیب د ےکر #ولارت کو ما لک رن کااوز عوام اس تر تیب فاص سے واقف کل لہا علوم ہواکہ ال سے ال شره تم نظری لو کار ۱ فل وکان. ارام ےآ نظ رک»و تاتڑعائ یکوفا ترو دیا عالاگمہدےداے۔ ولاح۔ ری اور برک یکی